ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حیدرآباد بم دھماکہ معاملہ پھانسی کی سزاء کے خلاف جمعیۃ علماء ہائی کورٹ سے رجوع ہوگی

حیدرآباد بم دھماکہ معاملہ پھانسی کی سزاء کے خلاف جمعیۃ علماء ہائی کورٹ سے رجوع ہوگی

Mon, 19 Dec 2016 23:15:35    S.O. News Service

ممبئی ۱۹؍ دسمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) ۲۱؍ فروری ۲۰۱۳ ء کو حیدرآبادکے دلسکھ نگرعلاقے میں رونما ہونے والے بم دھماکہ معاملے میں آج خصوصی عدالت نے تمام ملزمین کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے احکامات جاری کیئے ہیں لیکن دفاعی وکلاء اور ملزمین کے اہل خانہ نچلی عدالت کے فیصلہ سے مطمین نہیں ہیں اور ہم اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے ، ان خیالات کا اظہار ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں دی ۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ حیدرآباد کے قریب واقع چیرا پلی جیل میں قائم کی گئی خصوصی NIA عدالت کے روبرو معاملے کی سماعت عمل میں آئی جس کے دوران استغاثہ نے ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لیئے ۱۵۸؍ سرکاری گواہوں کو طلب کیا اور ۵۰۲ ؍ دستاویزات عدالت میں پیش کیئے نیز ۲۰۱؍ ایسی اشیا ء کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا جسے بم دھماکوں کے مقامات سے حاصل کیا گیا تھا ۔

گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ ملزمین کی پیروی جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ آر مادھون کی اور انہوں نے زبانی بحث کے ساتھ ساتھ  ۱۷۲؍ صفحات پر مشتمل تحریری جواب بھی داخل کیا اور عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں ملزمین کی گرفتاری سے لیکر فرد جرم عدالت میں داخل کیئے جانے تک قانونی کی دھجیاں اڑائی گئیں اور عدالت عظمی کے حکم ناموں کو نظر انداز کیا گیا جس کا فائدہ ملزمین کو ملنا چاہئے نیز صرف اقبالیہ بیان کی بنیاد پر ملزمین کو سزائیں نہیں دی جانی چاہئے کیونکہ اقبال بیان ملزمین سے جبراً حاصل کیا گیا تھا جس سے وہ پہلے ہی منحر ف ہوچکے ہیں لیکن خصوصی عدالت نے دفاع کے تمام دلائل کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے ملزمین کو مجرم قراردیا اور انہیں پھانسی کی سزا تجویز کی ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ فیصلہ کی نقول حاصل کرنے کے بعد وہ ممبئی اور دہلی کے سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد اپیل داخل کرنے کے تعلق سے لائحہ عمل تیار کریں گے نیز انہیں امید ہیکہ ہائی کورٹ سے ملزمین کو راحت حاصل ہوگی ۔

واضح رہے کہ دل سکھ نگر میں ہوئے دہرے بم دھماکوں میں ۱۷؍ لوگوں کی موت واقع ہوئی تھی جبکہ ۱۳۳؍ فراد شدید زخمی ہوئے تھے۔

بم دھماکوں کے بعد قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے ملزمین تحسین اختر، شیخ اعجاز، اسعد اللہ اختر، ضیاء الرحمن عرف وقاص ، یاسین بھٹکل کو گرفتارکیا تھا اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا ۔
 


Share: